9 اپریل 2012 - 19:30

ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات کی جگہ کےتعین پراتفاق نےجوترکی کےشہراستانبول میں ہونےوالےہیں سیاسی ماہرین کی توجہ اس جانب مبذول کردی ہے۔

ابنا: سیاسی وصحافتی حلقوں کی جانب سے ان مذاکرات کےنتیجہ خیز ہونے کےبارےمیں شکوک وشبہات کےباوجود استانبول اجلاس فریق ثانی کی نیک نیتی کےاظہارکاایک اورموقع ضرورہوسکتاہےکیونکہ وہ ہمیشہ ہی این پی ٹی کی شقوں سےالگ غیرمنطقی مطالبات پیش کرکے مذاکرات کےعمل کو اس کےتعمیری راستےسےمنحرف کرتا رہاہے۔بعض سیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ مذاکرات سےمغرب کامقصدیکطرفہ طور پرغیرمنطقی موقف پیش کرنا اور ایران کےخلاف ماحول تیارکرناہےجبکہ مذاکرات اسی وقت مثبت سمجھےجاسکتےہيں جب وہ منطقی دائرےمیں ہوں اورفریقین کےمشترکہ نظریات اورموقف کی بنیاد پر دونوں کی کامیابی کی اسٹریٹیجک پرآگےبڑھیں۔

یہ مذاکرات دوپہلؤں سےقابل غور ہيں ایک یہ کہ مذاکرات پھرسےشروع کرنےکےلئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اسٹن کی درخواست کا ایران کی جانب سےمثبت جواب

دیئےجانےسے گروپ پانچ جمع ایک کےپاس ایران کےایٹمی حقوق کےاحترام کےتناظرمیں مذاکرات کی میزپرواپس آنےکےسواکوئي چارہ ہی نہيں رہ گياتھا۔

لیکن مذاکرات کادوسراپہلو جوقابل غور ہے وہ بعض فریقوں کی جانب سے پہلےہی کی طرح بندگلی میں ختم ہوجانےوالےمذاکرات پراصرار ہے البتہ ان کامقصد واضح ہے کیونکہ وہ ایران کےخلاف پابندیوں اورفوجی دھمکیوں کےجوازکےلئےبہانہ تلاش کرناچاہتےہیں۔

بنیادی طور پر ایران کےپرامن اٹمی پروگرام میں مسئلہ پیدا کرنے کامقصد ایران کی پیشرفت کی راہ میں روڑےاٹکاناہے جبکہ ایران کےایٹمی پروگرام میں فوجی مقاصد کی طرف انحراف کاکوئي بھی ثبوت موجود نہيں ہے اس حقیقت کےباوجود ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےسربراہ یوکیاآمانو نےبورڈآف گورنرس کےنام اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ شبہ ظاہرکیاہے کہ ممکن ہے ایران پارچین کےفوجی علاقے کو ایٹمی تجربات کےلئےاستعمال کرے جبکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےانسپکٹر اب تک دوبار پارچین کامعائنہ کرچکےہيں پھربھی ایران نےاعلان کیاہے کہ وہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی پارچین کےعلاقے کامعائنہ کرنےکی درخواست اور کسی اتفاق رائےتک پہنچنےکےلئےبھی گفتگوپرتیار ہے۔

بہرحال ایران اور گروپ پانچ جمع ایک اب تک دوبار مذاکرات کرچکےہيں ۔مذاکرات کا پہلادور دسمبردوہزار دس میں جینیوامیں ہوا تھا اور دوسرا دور جنوری دوہزارگیارہ میں ترکی کےشہراستانبول میں انجام پایالیکن مغرب نے مذاکرات کےسلسلےمیں تعمیری رویہ اختیار نہيں کیا ہے اوراسی بنا پرمذاکرات ناکام ہوگئے۔

چنانچہ اگرمغر ب، پہلے کی طرح ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام روکنے پراصرار کرتارہا تویقینا یہ مطالبہ غیرمنطقی اور ناقابل قبول ہے اورایران کوئي بھی شرط قبول نہيں کرےگا۔
واضح ہے کہ تہران ، این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی کےمعاہدے کی رو سے اسلامی جمہوریہ ایران کےایٹمی حقوق کےاحترام کےتناظر میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹن کےموقف کاخیرمقدم کرتاہے۔

ایران کے حکام نے اس نکتےپربھی بارہاتاکید کی ہے کہ این پی ٹی کےرکن ہونےکےلحاظ سےاس ملک کےایٹمی حقوق پرمذاکرات نہيں کئےجاسکتے۔
اسی نکتےپرتاکید کرتےہوئے ایران کے اعلی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری اوراعلی مذاکرات کار سعیدجلیلی نےکیتھرین اسٹن کےنام اپنےخط میں واضح طورپرکہاہے کہ مذاکرات تعمیری ، بلاشرط اورپائدارتعاون کوعملی جامہ پہنانےکی غرض سےہونےچاہئے۔

اگرایسانہ ہوا تو مذاکرات ، ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں میں خلل ڈالنےکےسوا کچہ اورنہيں ہوں گے اور یہ وہی پالیسی ہے جوبرسوں سے امریکہ کی سربراہی میں مغرب کے بےبنیاد الزامات کی بنیاد پرجاری ہے لیکن اس کا ایران کےفیصلوں پرکوئي اثرنہيں ہوا ہے۔
.......

/169